پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

فرض کرو! ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض …

فرض کرو! ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو! یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو! یہ جی کی بپتا، جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو! ابھی اور ہو اِتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو! تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو! یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو! یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پِیت ہماری ہو
فرض کرو! اِس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو

فرض کرو! یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو! بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایہ ہو

دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو، کون دِلوں کی جانے، ہُو
بستی بستی صحرا صحرا، لاکھوں‌کریں دیوانے، ہُو

جوگی بھی، جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لئے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں

شاعر بھی، جو میٹھی بولی بول کے مَن کو ہرتے ہیں
بنجارے، جو اُونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

اُن میں سُچے موتی بھی ہیں، اُن میں‌کنکر پتھر بھی
اُن میں اتھلے پانی بھی ہیں، اُن میں گہرے ساگر بھی

گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچا، ہُو
ڈوبنے والی ڈوب گئی، وہ گھڑا تھا جس کا کچا، ہُو
۔۔۔ابنِ انشاء
….
اِبنِ اِنشاء۔۔۔
آپ کا قلمی نام تھا، جبکہ اصل نام شیر محمد تھا۔ آپ راچپوت گھرانے کے فرد تھے جالندھر کے ایک گاؤں " پھلَور" میں پیدا ہُوئے ۔ اِبنِ اِنشاء کا یہ وصف انہیں ممتاز کرتا ہے کہ وہ صرف قلمکار تھے۔ صحافی تھے ، مترجم تھے ، اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بھی رہے مگر جہاں بھی رہے قلَم کی حرمت کی پاسداری میں جُتے رہے۔ اِبنِ اِنشاء نہ ترقی پسند تھے اور نہ ہی رجعت پسند۔ وہ کسی "ادبی خانقاہ" کے نمک خوار نہ تھے ۔ اِبنِ اِنشاء کی شاعری اور نثر ایک ایسے شخص کی درد سے بھرپور کتھاء ہے جو اپنے دکھوں کو رضائےاِلٰہی کی خاطر خود ہی جھیلتا رہا۔ مزاح سے بھری ہوئی اِبنِ اِنشاء کی نثر اس انسان کی بھرپور مسکراہٹ ہے جو دکھوں کو چھپا کر واقعی مسکراتا ہے ۔
ایسے افراد(جو اپنے بہترین شاعر ہونے کے زعم میں مُبتلاء تھے اور مختلف حیلے بہانوں سے اپنی خود ساختہ ساکھ کو مزید نمایاں کرنے میں ہمہ وقت متحرک رہتے تھے) نے اِبنِ اِنشاء کو بھی اپنے راستے پہ چلانے کی بھرپور کوشِش کی ، سبز باغ بھی دکھائے مگر یہ درویش انسان ان کے دام میں نہ آسکا بلکہ ایک "شاعر" جب بھی خود ساختہ جلاوطنی کا روپ دھار کر بیرون ملک جاتے تو اِبنِ اِنشاء کو باقاعدگی سے خط لکھتے اور باتوں باتوں میں اپنے"مخصوص روابط" کو بحال رکھنے کے لئے دوستانہ اندازِ تحریر میں ہدایات دیتے۔۔۔لیکن یہ درویش منش عظیم انسان کسی طرح بچ نکلتا آخر اِبنِ اِنشاء ہمدردی کے"زہر" میں لتھڑی ایک سازش کا شکار ہوئے اور ولایت میں علاج کے لئے بھیج دئیے گئے مگر بظاہر دفتری ذمےداریوں کی ادائیگی کے لئے لندن بھیجا جانے والا عظیم محب وطن انسان زندگی کی بازی ہار گیا۔
حکیم خلیق الرحمٰن