( غیــر مطبــوعــہ ) مَیں اُڑان بھرنے کو ۔۔ جَست …
( غیــر مطبــوعــہ )
مَیں اُڑان بھرنے کو ۔۔ جَست بھر کی کسک سے ہو کے گذر گیا
کوئی رنگ مجھ پہ نہیں رکا ‘ مَیں دھنک سے ہو کے گذر گیا
تو وہ زنگ ۔۔۔ جس پہ لگی ہوئی ہے تمام رنگوں کی روشنی
میں وہ عکس جو ۔۔ کسی آئنے کی چمک سے ہو کے گذر گیا
نہ چُھواؑ گیا کسی ہاتھ سے’ نہ سما سکا کسی آنکھ میں
کوئی خواب ناک سا لمس تھا ‘ جو پلک سے ہو کے گذر گیا
جو مِری طرف سے تھا فاصلہ’ وہ مِرے قریب پڑا رہا
جو تِری طرف کا تھا راستہ ‘ وہ سڑک سے ہو کے گذر گیا
کبھی کچھ جواب دیا گیا ‘ کبھی کچھ سوال عطا ہوئے
کبھی شک کسی کو ہُوا کوئی، کوئی شک سے ہو کے گذر گیا !
( عمار اقبال )