منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیـر مطبوعہ ) یہ ترے مزاج کی تلخیاں' کہیں …

( غیـر مطبوعہ )

یہ ترے مزاج کی تلخیاں' کہیں رنجشوں کو ہوا نہ دیں
تو کہے اگر تو کبھی کبھی کا یہ رابطہ بھی گھٹا نہ دیں

ملے اب تو جاں کو کہیں اماں' رہیں کب تلک یونہی بے اماں
وہ جو خواب تھا کسی آنکھ کا ' اسے خواب سے ہی مٹا نہ دیں

تجھے جب ملیں کبھی فرصتیں' تو یہ بیٹھ کے ذرا سوچنا
کہ بنے ہوئے ہیں جو راہ بر 'وہی بستیوں کو جلا نہ دیں

کہَیں کس سے اپنی یہ داستاں 'جسے دیکھو وہ ہے دُکھا ہوا
یہ جدا مزاج کے لوگ ہیں 'تجھے پستیوں سے ملا نہ دیں

ہے عجب طرح کی یہ بے کلی' نہیں چَین ایک بھی پل مجھے
کہ تری انا کے یہ مسئَلے 'کہیں دکھ کا جال بچھا نہ دیں

تو ذرا سنبھل کے اٹھا قدم' نہ سمجھ یوں خود کو ہی عقلِ کُل
مِرے دوست ! تیرے حبیب ہی 'تجھے راستے میں دغا نہ دیں

( نائلہ راٹھــــور )

— with Naila Rathore.