(غیر مطبوعہ )
نجانے سنتا ہے کیا اور کیا نہیں سنتا
کسی کے دکھ کی دہائی خلا نہیں سنتا
تمھیں شہید جو دوران ِ بندگی کر دے
کلام – پاک بھی کیا وہ موا نہیں سنتا
کسی یزید کا پروردہ جو بھی قاتل ہے
کسی حُسین کا وہ مرثیہ نہیں سنتا
میں کچھ بتا نہیں سکتا ہوں اس کے بارے میں
کسی کی چیخ وہ سنتا ہے' یا نہیں سنتا
یہ سننے والے تو اک دوسرے کے حاسد ہیں
جب ایک سنتا ہے ، تب دوسرا نہیں سنتا
وگرنہ مر چکے ہوتے مرے تمام غنیم
دعا سنے نہ سنے ، بد دعا نہیں سنتا
اسے کچھ اور بھی شاید سنائی دیتا نہیں
اگر کوئی کہیں چپ کی صدا نہیں سنتا
مقاطعہ ہے محبت میں اس قدر یعنی
مری زباں سے وہ حمد وثنا نہیں سنتا
یہ میرا وہم ہی منکر نہ کر دے اس کا مجھے
وہ سب کی سنتا ہے، میری نوا نہیں سنتا
مرے خیال میں ممکن نہیں ہے شنوائی
کہ اجنبی کی طرح آشنا نہیں سنتا
وہ میرا ذکر کرے ان سنا تو آئے خیال
وفا کی بات کوئی بے وفا نہیں سنتا
سنے وہ دل کی دراڑوں کی التجا بھی ظفر !
کہوں میں کیسے کہ میرا خدا نہیں سنتا
( صــابر ظفــر ؔ )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔