( غیر مطبوعہ )
دل اسیرِ زلفِِ جاناں ہے ہنوز
یاد اُس کی دل میں مہماں ہے ہنوز
اور بھی ہیں چاہنے والے مرے
دل مگر اس کا ہی خواہاں ہے ہنوز
یاد ہے اُس شوخ کی اک اک ادا
ہر سخن کانوں میں رقصاں ہے ہنوز
جگمگائی ہیں مری تنہائیاں
یاد اُس کی ماہِ تاباں ہے ہنوز
شیشہِ دل میں ہے تصویرِ صنم
دل کو بہلانے کا ساماں ہے ہنوز
ساتھ ہے وہ دؤر رہ کر بھی خُمارؔ!
اُس کا مجھ پر یہ بھی احساں ہے ہنوز
(سلیمان خُمار)
— with Suleman Khumar.

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔