غیاث متین – منفرد جدید لہجے کا شاعر . خیال آگ ہے ،…


غیاث متین – منفرد جدید لہجے کا شاعر
.
خیال آگ ہے ، شعلہ ہے فکر ، لَو ، الفاظ
یہ سب ہنر ہیں تو پھر اس ہنر میں ہم بھی ہیں
…..
تم نے پوچھا ہے تو بس تم کو بتاتا ہوں متینؔ
صبح ہوتی ہے کہیں ، شام کہیں ہوتی ہے !
…..
خشک دریاوں کو پانی دے گیا
یاد کا موسم ‘ نشانی دے گیا
خواب کے سارے پرندے اُڑ گئے
وقت ‘ تعبیریں پُرانی دے گیا
…..
وقت ہونٹوں پہ دعا بن کے لرزتا ہے متینؔ
آج کھل جائے گا وہ بابِ اثر لگتا ہے
…..
اپنی ہی ذات کے اندر کا سفر خوب سہی
قاف تا قاف سفر ہو ، تو سفر لگتا ہے !
…..
کاغذوں کے ٹکڑوں سے آئینہ بناتے ہیں
ہم ہیں کیسے دیوانے ، کیا سے کیا بناتے ہیں

تتلیوں کے پَر جیسے خواب ہیں متینؔ اپنے
ہاتھ بھی نہیں آتے ، سلسلہ بناتے ہیں
…..
دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیں
وقت آوارہ ہے ، ٹھنڈی چھاؤں میں سوتا نہیں
…..
میں نے چپکے سے کہی ، اک بات اس کے کان میں
اس نے اپنے ہاتھ سے گل کردیا ہنس کر چراغ !
…..
لہجے کو پھول ‘ لفظ کو جُگنو ‘ اگر کریں
وقتِ رَواں کے ساتھ معانی ‘ سفر کریں
…
موسم ‘ پرندے ‘ دھوپ کی دیوار ‘ شب چراغ
قصہ طویل ہونے لگا ‘ مختصر کریں
….
آئینہ بن کے بات کرتی دھوپ
دِل کی دیوار پر برستی دھوپ
…
اکیلا گھر ہے ‘ کیوں رہتے ہو ‘ کیا دیتی ہیں دیواریں
یہاں تو ہنسنے والوں کو ‘ رُلادیتی ہیں دیواریں
…
چڑھتے ہوئے دریا ہوں کہ سوکھی ہوئی نہریں
رکھتے ہیں تِرے سر ‘ سبھی الزام ‘ سمندر
…
عکس جس کو تم سمجھتے ہو متینؔ
آئینے کے بھی ہے اندر آئینہ
…
کیوں کسی کو ڈھونڈتے ہو ، ہاتھ میں لے کر چراغ
اب کہاں وہ گاؤں ، ہوتے تھے جہاںگھر گھر چراغ
….
بشکریہ سید معظم راز