غیاث متین خشک دریاوں کو پانی دے گیا یاد کا موسم ‘…
غیاث متین
خشک دریاوں کو پانی دے گیا
یاد کا موسم ‘ نشانی دے گیا
خواب کے سارے پرندے اُڑ گئے
وقت ‘ تعبیریں پُرانی دے گیا
…..
وقت ہونٹوں پہ دعا بن کے لرزتا ہے متینؔ
آج کھل جائے گا وہ بابِ اثر لگتا ہے