غزل قیصر الجعفری ٹُوٹے ہوئے خوابوں کی چُبھن کم ن…

غزل
قیصر الجعفری

ٹُوٹے ہوئے خوابوں کی چُبھن کم نہیں ہوتی
اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی

کتنے بھی گھنیرے ہوں تِری زُلف کے سائے
اِک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی

ہونٹوں سے پئیں، چاہے نگاہوں سے چُرائیں …

More

May be an image of ‎1 person and ‎text that says '‎الجعفری قيصر Qaiser ul Jafri 1926 2005 ÛrPotry Poetry‎'‎‎