غزل
قیصر الجعفری
ٹُوٹے ہوئے خوابوں کی چُبھن کم نہیں ہوتی
اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی
کتنے بھی گھنیرے ہوں تِری زُلف کے سائے
اِک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی
ہونٹوں سے پئیں، چاہے نگاہوں سے چُرائیں …


غزل
قیصر الجعفری
ٹُوٹے ہوئے خوابوں کی چُبھن کم نہیں ہوتی
اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی
کتنے بھی گھنیرے ہوں تِری زُلف کے سائے
اِک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی
ہونٹوں سے پئیں، چاہے نگاہوں سے چُرائیں …

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔