منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

غالب کا ایک فارسی شعر ،صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا…

غالب کا ایک فارسی شعر ،صوفی غلام مصطفیٰ

تبسم کا ترجمہ و تشریح- اسی مضمون کے چار

اردو اشعار‫‫‫‫…… دو شعر غالب کے ، ایک ان کے

دوست اور ہم عصر مومن خان مومن کے اور

ایک شعر حیدر علی آتش کا –

*

نوردم نامه و دل بارها از بدگمانی ها
نهد نقش تو پیش روی و خود را نامه بر گرد

[میں خط لکھ کر اُسے لپیٹ لیتا ہوں مگر میرے دل میں بار بار یہ وسوسے پیدا ہوتے ہیں اور اس عالم بدگمانی میں تیرا تصور سامنے آتا ہے اور قاصد کے سپرد کرنے کی بجائے میرا دل خود ہی نامہ بر بن جاتا ہے –

یعنی دل تصور میں تجھ سے باتیں کرنے لگتا ہے اور رشک یہ گوارا نہیں کرتا کہ خط نامہ بر کے ذریعے بھیجا جائے –
‫ *

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یارب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا (غالب)
*

رشکِ پیغام ہے عناں کشِ دل
نامہ بر راہ بر نہ ہو جائے (مومن)
*

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے (غالب)
*

پیام بر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے (آتش)

*******

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2850300181867163