عدم گونڈوی نہ محلوں کی بلندی سے نہ لفظوں کے نگینے …
عدم گونڈوی
نہ محلوں کی بلندی سے نہ لفظوں کے نگینے سے
تمدن میں نکھار آتا ہے گھیسو کے پسینے سے
کہ اب مرکز میں روٹی ہے، محبت حاشیے پر ہے
اتر آئی غزل اس دور میں کوٹھی کے زینے سے
ادب کا آئینہ ان تنگ گلیوں سے گزرتا ہے
جہاں بچپن سسکتا ہے لپٹ کر ماں کے سینے سے
بہارِ بیکراں میں تا قیامت کا سفر ٹھہرا
جسے ساحل کی حسرت ہو اتر جائے سفینے سے
ادیبوں کی نئی پیڑھی سے میری یہ گزارش ہے
سنجو کر رکھیں ‘دھومل’ کی وراثت کو قرینے سے
رام ناتھ سنگھ عدم گونڈوی