طعنہ زن ہیں کس لیے اغیار میں دیوانہ ہوں
میں تو خود کہتا ہوں سو سو بار میں دیوانہ ہوں
بیٹھنے دو مجھ کو زیرِ سایہءِ دیوارِ یار
ساکنانِ کوچہءِ دلدار میں دیوانہ ہوں
وہ مری وارفتگی پر جوش میں آتے گئے
اور میں کہتا گیا سرکار میں دیوانہ ہوں
مجھ کو رسوائی سے الفت وحشتوں سے پیار ہے
آپ سمجھاتے ہیں کیوں بیکار، میں دیوانہ ہوں
سیفؔ اپنے ہوں کہ بیگانے مری بنتی نہیں
وائے مجبوری کہ وہ ہشیار میں دیوانہ ہوں
سیف الدین سیفؔ
از:-خمِ کاکُل ص ۱۰۰
اِنتِخاب
سفیدپوش

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔