شہزاد احمد کی ساتویں برسی August 01, 2012 چپ کے …
شہزاد احمد کی ساتویں برسی
August 01, 2012
چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی
آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھو
منہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی
ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر
ثبت پھیلی ہوئی بانہوں پہ حرارت اس کی
وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو
ابھی محسوس کئے جاؤ رفاقت اس کی
وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوں
مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی
وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میں
میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی
بے طلب جینا بھی شہزاد طلب ہے اس کی
زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی
….
جناب شہزاد احمد ایک سچے شاعر تھے انہوں نے "جام بکف” شاعروں کی طرح اپنی تشہیر کی خاطر کوئی منفی راستہ نہیں اپنایا حالانکہ وہ ادبی ادارے کے سربراہ بھی رہے۔ان کا ایک شعر ملاحظہ کیجئے ۔۔بہت دیر تک اس شعر کی کیفیت آپ کو سرشار رکھے گی۔
(حکیم خلیق الرحمٰن)
اس راہ سے گزرے تھے کبھی اہل نظر بھی
اس خاک کو چہرے پہ ملو آنکھ میں ڈالو