شاعری۔۔!! تم نے کیسے معلوم کیا ، میرے گھر کا راستہ میری ماں کو تو البانوی زبان …
شاعری۔۔!!
تم نے کیسے معلوم کیا ، میرے گھر کا راستہ
میری ماں کو تو البانوی زبان بھی ٹھیک سے نہیں آتی
خط لکھتی ہے تو، آراگوں کی طرح
نہ اس میں کومے ہوتے ہیں نہ فُل اسٹاپ
میرے باپ نے اپنی جوانی
سمندروں کی سنگت میں گزاری
پھر بھی تم آگئی ہو
میرے خاموش پہاڑی شہر کی فٹ پاتھ پر چلتی
اور جھجکتے ہوئے کھٹکھٹا دیا دروازہ
میرے 12 نمبر والے تین منزلہ مکان کا
میں نے زندگی میں بے شمار چیزوں سے محبت کی،
بے شمار سے نفرت
” بہت سے مسائل کے لیے میں ایک ” کھلا شہر ” رہا ہوں
لیکن بہرحال۔۔
ایک نوجوان کی مثال
جو اپنی شبانہ آوارہ گردیوں کے بعد
تھکن سے چور گھر لوٹتا ہے
میں بھی لوٹ آیا ہوں تمہاری طرف مضمحل اور نڈھال
ایک اور فرار کے بعد
اور تم، میری تمام بے وفائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے
سہلائے جا رہی ہو میرے بالوں کو، نرمی سے
میری آخری منزل
شاعری۔۔ !!
••••
شاعر : اسماعیل کادارے
مترجم : احمد مشتاق
حوالہ : ذہن جدید
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3877375619159609