منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

"زبان” جن دِنوں میں پیرس میں تھا وہاں میری ملاقات…


"زبان”

جن دِنوں میں پیرس میں تھا وہاں میری ملاقات ایک مصّور سے ہوئی جو کہ داغستانی تھا اور اِنقلابِ رٗوس کے وقت تعلیم کے لیے فرانس گیا ٫ وہاں شادی کی اور فرانس میں ہی رَچ بَس گیا.

پیرس سے واپسی پر میں نے مصّور کے رشتہ داروں کو تلاش کیا.اِتفاق سے اُس کی ماں زندہ تھی .مصّور کے رشتہ دار اور اُس کی ماں میرے گرد جمع ہو گئے. وہ خوش بھی تھے اور اَفسردہ بھی۔ کہ اُن کے جس سپوت نے اپنا دیس چھوڑ دیا تھا اور وہ زندہ تھا اور افسردہ اِس لیے کہ وہ اپنی مٹی سے ناطہ ہمیشہ کے لیے توڑ چکا تھا۔

اچانک اُس کی ماں نے مجھ سے سوال کیا "رَسُول اُس نے تم سے بات چیت آوار زبان میں کی ہو گی نا ”

میں نے جواب دیا کہ ، نہیں ہم نے مترجم کے ذریعے سے بات چیت کی۔

ماں نے یہ سُنتے ہی چہرے پر سیاہ نقاب ڈال دیا (جو ھمارے پہاڑوں میں مائیں اپنے جوان بیٹےکی موت کی خبر سُن کر چہرے پہ ڈال لیا کرتی ہیں۔

پھر ایک طویل خاموشی کے بعد اُس مصّور کی ماں بولی ٫ "رَسُول حمزہ تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی یے ، میرے بیٹے کو مَرے تو بہت عرصہ ہو گیا۔ تم جِس مصّور سے مِلے ہو وہ میرا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ میرا بیٹا اُس زبان کو ہرگز نہیں بُھلا سکتا جو اُس کی آوار ماں نے اُسے سِکھائی تھی۔

"رسُول حمزہ توف”
"میرا داغستان” سے انتخاب۔

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی