رباعی عمر خیام
آورد به اِضطرارم اوّل به وجود،
جز حیرتم از حیات چیزی نفزود،
رفتیم به اِکراه و ندانیم چه بود
زین آمدن و بودن و رفتن مقصود
ترجمہ:
میں اضطراب کی صورت میں وجود میں لایا گیا۔ حیرت کے سوا مجھے زندگی میں کچھ نہ ملا۔ جب جانا پڑا تو زبردستی لے جایا گیا۔ میں ابھی تک نہیں سمجھا کہ میرے یہاں آنے رہنے اور جانے کا مقصد کیا تھا۔
منظوم اردو تراجم:
اِس رچنا میں کہاں سے آئے، کیوں آئے ہم کون بہانے
جیسے پانی بہتے ویسے ہی بے جانے بوجھے
چھوڑ کے چل دے ہوا کا جھونکا، خالی رہ جائیں ویرانے
اِس رچنا کو چھوڑ کے جانا ویسے ہی بے جانے بوجھے
(میرا جی)
لایا مجھے اضطراب گھبرایا سا
حیرت کے سوا حیات نے کیا بخشا
جب یاں سے گیا ہوں تو گیا مرمر کر
یہ آنا، یہ جانا، یہ چلا جانا کیا؟
(آغا شاعر)
بے بس تھا، چلا آیا مرا آنا کیا
آکر نہ یہ سمجھا کہ ہے افسانہ کیا
پھر لوٹ گیا مگر یہ عقدہ نہ کھلا
یہ آنا، ٹھہرنا، یہ پلٹ جانا کیا
(عصمت)
مشمولہ: "خیام – رباعیات اور ان کے ترجمے" ، تالیف: بیدار بخت، سٹی پریس بک شاپ، کراچی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2847926512104530

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔