خُدا نے کیوں دلِ درد آشنا دیا ہے مجھے اِ…
خُدا نے کیوں دلِ درد آشنا دیا ہے مجھے
اِس آگہی نے تو پاگل بنا دیا ہے مجھے
تمہی کو یاد نہ کرتا تو اور کیا کرتا
تمہارے بعد سبھی نے بُھلا دیا ہے مجھے
صعوبتوں میں سفر کی کبھی جو نیند آئی
میرے بدن کی تھکن نے اُٹھا دیا ہے مجھے
میں وہ چراغ ہوں جو آندھیوں میں روشن تھا
خود اپنے گھر کی ہوا نے بُجھا دیا ہے مجھے
بس اِک تحفہِ افلاس کے سوا ساقیؔ
مَشَقتُوں نے اور کیا دیا ہے مجھے
ساقیؔ امروہوی
المرسل: فیصل خورشید