منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

خلیل جبران——"ٹوٹے ہوئے پَر" خلیل جبران …

خلیل جبران——"ٹوٹے ہوئے پَر"

خلیل جبران 6جنوری1882 کو لبنان میں پیدا ہوئے— 10اپریل 1931 کو نیو یارک میں وفات پائی –
وہ بیک وقت ادیب ،شاعر، فلسفی، مصور اور کالم نویس تھے۔ ابتدائی دور اُنہوں نے لبنان میں ہی گذارا بعدازاں بہتر سہولیاتِ زندگی کی تلاش میں اپنے خاندان کے ہمراہ بوسٹن امریکہ چلے آئے۔عربی زبان اور انگریزی زبان ، دونوں میں ان کی تخلیقات موجود ہیں۔ان کی تصنیف "The Prophet " دُنیابھر میں Bestseller رہی ہے۔ اس کے 100سے زائد مختلف زبانو ں تراجم ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں محبت اور فطرت کی عکاسی بہت نمایاں ہے۔پاکستان کے بہت سے پبلشرز نے ان کے ناول اور افسانوں کے اردو زبان میں تراجم شائع کئے ہیں۔نیچے ان کا مشہور افسانہ" ٹوٹے ہوئے پَر" کا ایک اقتباس دیا جارہا ہے میری رائے میں یہ پیرا گراف اس کی جان ہے:-
(ماجد اقبال چودھری)

“اور سلمٰی نے جب یہ الفاظ سُنے تو اس کاروشن چہرہ مدھم پڑ گیااور آنکھیں پتھرا گئیں جیسے اس کو موت کا پیغام آگیا ہو پھر وہ کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑاتے ہوئے چیخ اُٹھی کپکپاتی رندھی ہوئی آواز اس کے حلق سے اُبھری۔
“آپ نے کیا کہا؟”
میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی !
آپ مُجھے کہا ں بھیج رہے ہیں ؟
پھراُسی لمحے جیسے اُسے سب کُچھ یاد آگیاہو ، راز سے پردہ اُٹھ گیا ہواپنے باپ کو جان گئی ہو۔ وہ لرزتی آواز میں بولی:
اے والدِ محترم ! میں سمجھ گئی اور جان گئی آپ کی خواہش! بِشپ نے مُجھے آ پ سے طلب کیا ہے نا؟ اس نے پَر شکستہ پرندے کے لئے پنجرے کا بندو بست کرلیا ہے! یہی بات ہے نا؟ اور یہ کہ آپ کی بھی یہی مرضی ہے نا؟
جواب میں فارس آ فندی ایک آہ بھر کے خاموش ہو گیا۔پھر اس نے بڑی ملائمت سےسلمٰی کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھر کے اندر لے گیا۔اور میں بت بنا وہیں کھڑا رہا۔ غم کی لہریں میرے دل سے یوں ٹکرا رہیں تھیں جیسے تیز ہوائیں خزاں رسیدہ پتوں سے ٹکراتی ہیں۔اور میرا افسردہ دلِ پت جڑ کے پھولوں کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر بکھرا جارہا تھاآخر مَیں بوجھل قدموں کے ساتھ ان کے پیچھے چلا یہ جانتے ہوے بھی کہ میری اور سلمٰی کے دل کی دنیا متزلزل ہورہی ہے میں نے فارس آفندی سے ہاتھ ملایا، سلمٰی کے دُھندلائے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر تیزی سے قدم اُٹھاتا ہواباہر نکل گیا۔”

“ٹوٹے ہوئے پَر” سے اقتباس


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2758469387716910