خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا
محسن نقوی
وہ کون لوگ تھے ، ان کا پتہ تو کرنا تھا
مرے لہو میں نہا کر جنہیں نکھرنا تھا
یہ کیا کہ لوٹ بھی آئے سراب دیکھ کے لوگ
وہ تشنگی تھی کہ پاتال تک اترنا تھا
گلی کا شور ڈرائے گا دیر تک مجھ کو !
میں سوچتا ہوں دریچوں کو وا نہ کرنا تھا
یہ تم نے انگلیاں کیسے فگار کر لی ہیں ؟
مجھے تو خیر لکیروں میں رنگ بھرنا تھا
وہ ہونٹ تھے کہ شفق میں نہائی کرنیں تھیں ؟
وہ آنکھ تھی کہ خنک پانیوں کا جھرنا تھا ؟
گلوں کی بات کبھی راز رہ نہ سکتی تھی
کہ نکہتوں کو تو ہر راہ سے گزرنا تھا
خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا
I was a flower like this, finally I had to scatter
Mohsin Naqvi
Who were those people, I had to find them
Bathe in my blood who wanted to bloom
What is this that people came back after seeing the mirage
She was craving to get down to Sheol
The noise of the street will frighten me for a long time!
I guess the windows weren't supposed to be waaa
How have you figured your fingers?
I had to fill the colors in the good lines
Those were lips that were bathing rays in the twilight?
Was it an eye that was a flow of freezing water?
The words of flowers could never remain a secret
That's why they had to go through every way
Complaining with autumn sunshine is useless Mohsin
I was a flower like this, finally I had to scatter

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔