جسم سے دور ہوں اور جان میں آیا ہوا ہوں
میں تو بس وعدہ و پیمان میںآیا ہوا ہوں
جیسے ملبے سے نکالا ہے کسی نے مجھ کو
جیسے بکھرے ہوئے سامان میں آیا ہوا ہوں
جیسے مجھ میں بھی عدالت ہی لگی ہے کوئی
جیسے میں بھی کسی بحران میں آیا ہوا ہوں
کیسے اب تول رہا ہے وہ مرے وعدوں کو
کیسے میں حُسن کے میزان میں آیا ہوا ہوں
کیسے وہ دیکھ رہا ہے مجھے منزل کی طرح
کیسے اب میں کسی امکان میں آیا ہوا ہوں
جتنے برسوں سے میں آزاد ہوں اس دھرتی پر
اتنے برسوں سے ہی زندان میں آیا ہوا ہوں
گرد ہے، عشق کی گرمی ہے ، لحد ہے مجھ میں
اس لئے میں رضی ملتان میں آیا ہوا ہوں
رضی الدین رضی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔