جتنے ابرو ہیں وہ خمدار ہوا کرتے ہیں تِرچھی نظروں …
جتنے ابرو ہیں وہ خمدار ہوا کرتے ہیں
تِرچھی نظروں کے ہی سب وار ہُوا کرتے ہیں
کوئی ہمدردی تو اُکساتی ہے اُن کو اِس پر
لُوٹنے والے بھی دلدار ہُوا کرتے ہیں
جانے کیا لوگوں پہ اِسوقت گزرتی ہوگی
کیا کبھی آپ بھی بیمار ہُوا کرتے ہیں
تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل
پیار کے سینکڑوں اظہار ہُوا کرتے ہیں
وہ تو پَربت ہیں جو گر جاتے ہیں ٹکڑے ہو کر
حوصلے بھی کہیں مِسمار ہُوا کرتے ہیں
کس محبت سے عدم! ہنس کہ وہ کہتے ہیں مجھے
چاہنے والے تو خود دار ہُوا کرتے ہیں
(عبدالحمید عدم)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی