افغانستانی شاعرہ ثروت نجیب کی ایک نظم "کیمرہ اور کلاشنکوف”
_________
تم نے
سدا مجھے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا
ہمیشہ
تمھارے لینز کا زوم
میرے کندھے پہ لٹکی کلاشنکوف پہ فوکس رہا
تم نے میری بانسری
اور شیشوں سے مزین نسوار کی ڈبیا
کو نظر انداز کر کے
میرا جو روپ دنیا کو دکھایا
وہ میرا آدھا سچ تھا
میری مکمل کہانی
میری کلائی پہ گودے ہوئے گلاب کے پھول کی طرح
ہمیشہ پوشیدہ رہی
کیونکہ میرے کف کے بٹن
میری ثقافت کی وجہ سے اکثر بند رہتے ہیں
تم نے میری مہندی سے رچی انگلیوں کی پوروں،
کان میں اڑسے مرسل کے پھول
اور شوخ دھاگوں سے کاڑھی گئی رخچینہ ( ٹوپی ) سے بھی
اندازہ نہیں لگایا
کہ میرا دیہاتی ذوق کتنا رنگین ہے
مجھے روسی ٹینکوں
خانہ جنگی کے دنوں میں داغے گئے میزائلوں
اور امریکی بی باون طیاروں سے گرائے گئے بموں نے
اتنا زخمی نہیں کیا
جتنا تمھاری فوٹو گرافی نے مجھے اور میری شہرت کو گھائل کیا ہے
میں آج تک کسی کو بتا نہ سکا
کہ دراصل
کلاشنکوف میں نے حملہ آور
جنگلی بھیڑیوں کو ڈرانے کے لیے اٹھا رکھی تھی
یہ اور بات
بھیڑے روپ بدلتے رہے
اور میں
دنیا کی نظروں میں جنگ جُو کا جنگ جُو ہی رہا!
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3825683614328810
Comments
4 responses to “افغانستانی شاعرہ ثروت نجیب کی ایک نظم "کیمرہ اور کلاشنکوف” _________ تم نے سد…”
زبردست عکاسی
واہ کمال 🌹🌹
Wah Kamal
Beautiful