جانے کیا کچھ مدہوشی کے باب میں رکھ کر بھول گئی
میں خود اپنی ذات کسی کے خواب میں رکھ کر بھول گئی
میں نے جس کو ٹوٹ کے چاہا اس نے اتنے رنج دیئے
میں بھی اس کو قسمت کے گرداب میں رکھ کر بھول گئی
جس کی پتی پر خوشبو سے میں نے اپنا نام لکھا
پھول کنول کا آج وہی تالاب میں رکھ کر بھول گئی
دل میں اِک طوفان بپا تھا، سوچ میں ایسی ہلچل تھی
کشتیءِ جاں کو اشکوں کے سیلاب میں رکھ کر بھول گئی
اپنے آنسو، اپنی آہیں، ہجر کی راتیں، سارے غم
اپنے لٹ جانے ہی کے اسباب میں رکھ کر بھول گئی
اپنے سب اشعار جو میں نے اُس کی خاطر لکھے تھے
وہ سب اپنی طِینَت کے آداب میں رکھ کر بھول گئی
دکھ تو اپنے ساتھی ہیں، زرؔیاب خوشی سے کیا لینا
اپنی خوشیاں ساری ہی احباب میں رکھ کر بھول گئی
ہاجرہ نور زرؔیاب
از:-الفاظ کی سرگوشیاں ص ۳۳/۳۴
اِنتِخاب
سفیدپوش

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔