تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں دنیا بھی گئی …


تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں
دنیا بھی گئی عشق میں تجھ سے بھی گیا میں

اک سوچ میں گم ہوں تری دیوار سے لگ کر
منزل پہ پہنچ کر بھی ٹھکانے نہ لگا میں

ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو
یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

میں تیز ہوا میں بھی بگولے کی طرح تھا
آیا تھا مجھے طیش مگر جھوم اٹھا میں

اس درجہ مجھے کھوکھلا کر رکھا تھا غم نے
لگتا تھا گیا اب کے گیا اب کے گیا میں

یہ دیکھ مرا ہاتھ مرے خون سے تر ہے
خوش ہو کہ ترا مد مقابل نہ رہا میں

اک دھوکے میں دنیا نے مری رائے طلب کی
کہتے تھے کہ پتھر ہوں مگر بول پڑا میں

اب طیش میں آتے ہی پکڑ لیتا ہوں پاؤں
اس عشق سے پہلے کبھی ایسا تو نہ تھا میں

(عباس تابش)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


Comments

7 responses to “تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں دنیا بھی گئی …”

  1. میں #اردو_کلاسک کو بہت دیر سے Follow کر رہا ہوں یہ الگ بات ہے کہ میں Facebook بہت کم استعمال کرتا ہوں لیکن #اردو_کلاسک جو اردو شاعری کو اتنا فروغ دے رہا ہے، چاهے وه میر اور غالب کے زمانے سے ہوں چاهے فیض اور فراز کے، اتنا میں نے کوئی دوسری #پیج پر نہیں دیکها.
    اس کے باوجود کے میں ایک بلوچ ہوں اور میری زبان بلوچی ہے لیکن اردو سے خاص کر اردو شاعری سے مجهے اتنا ہی پیار ہے جتنا ایک اردو بولنے والے کو.

    #اردو_کلاسک_ٹیم_کو_سلام

  2. کہتے تهے کہ پتهر ہوں مگر بول پڑا میں

جواب دیں