تیری آواز ، کیا آنے لگی ھے
گلی میں دُھوپ لہرانے لگی ھے
تیری بانہوں میں مرنے کی تمنا
مجھے جینے پہ اُکسانے لگی ھے
زوالِ عمر میں تیری محبت
مجھے کچھ اور مہکانے لگی ھے
تیرے قربِ رَواں کی چاہ ، مجھ کو
سرِ آفاق پھیلانے لگی ھے
میں اپنی راکھ سے نکلا ، تو یُوسف
ستاروں تک خبر جانے لگی ھے
”یُوسف حَسن“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔