منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

تو اور غم الفت جذبیؔ مجھ کو تو یقیں آئے نہ کبھی ج…


تو اور غم الفت جذبیؔ مجھ کو تو یقیں آئے نہ کبھی
جس قلب پہ ٹوٹے ہوں پتھر اس قلب میں نشتر ٹوٹ گئے

ڈاکٹر معین احن جذبیؔ کی وفات
Feb 13, 2005

نام معین احسن، ڈاکٹر اور جذبی تخلص تھا۔(پہلا تخلص ملال تھا)۔ ۲۱؍ اگست۱۹۱۲ء کو مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جھانسی میں حاصل کی۔ ۱۹۳۶ء میں اینگلوعربک کالج، دہلی سے بی اے کیا۔۱۹۴۲ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔جذبی نے ’’حالی کی سیاسی شاعری‘‘ پر مقالہ لکھ کرپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصہ رسالہ’’آج کل‘‘ کے ادارتی فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ اردو میں لکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے اورپروفیسر اور شعبے کے سربراہ کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ وہ علی گڑھ کے ہی ہوکر رہ گئے۔ جذبی نے باقاعدہ شاعری ۱۹۲۹ء سے شروع کی۔ شروع میں حامد شاہ جہاں پوری اور صادق دہلوی سے اپنے کلام پر اصلاح لی۔ جذبی نے نظمیں بھی کہی ہیں، مگر بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر تھے۔ ان کے تین شعری مجموعے’’فروزاں‘‘، سخن مختصر‘‘ اور ’’روداد شب‘‘ شائع ہوگئے ہیں۔ انھیں مودی غالب ایوارڈ، میر اکادمی ایوارڈ اور اترپردیش اکادمی ایوارڈ کے علاوہ حکومت ہند نے انھیں سب سے بڑے ادبی ایوارڈ’’پدم بھوشن‘‘ سے نوازا۔ وہ ۱۳؍ فروری۲۰۰۵ء کو علی گڑھ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے