منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں رحمت …


توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں
رحمت کا ارادہ بگڑا ہے برسات کی نیت ٹھیک نہیں
عبدالحمید عدمؔ کا یومِ ولادت
10؍اپریل 1910
نام سیّد عبدالحمید اور تخلص عدمؔ تھا۔ 10؍اپریل 1910ء کو تلونڈی، موسیٰ خاں ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم وتربیت لاہو ر میں ہوئی۔ بی اے پاس کرنے کے بعد ملٹری اکاؤنٹس کے محکمے میں ملازم ہوگئے اور اکاؤنٹس افسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اوائل عمر ہی سے شعروشاعری کا شوق تھا۔ کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا۔ 10؍مارچ 1981ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔
عبدالحمید عدمؔ کے منتخب اشعار
…
آنکھ کا اعتبار کیا کرتے
جو بھی دیکھا وہ خواب میں دیکھا
—
آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو
اب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا
—
اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے
سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی
—
اک حسیں آنکھ کے اشارے پر
قافلے راہ بھول جاتے ہیں
—
اے دوست محبت کے صدمے تنہا ہی اٹھانے پڑتے ہیں
رہبر تو فقط اس رستے میں دو گام سہارا دیتے ہیں
—
اے غمِ زندگی نہ ہو ناراض
مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی
—
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ
بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
—
بعض اوقات کسی اور کے ملنے سے عدمؔ
اپنی ہستی سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے
—
پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو
اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں
—
آوارگی کا شوق بھڑکتا ہے اور بھی
تیری گلی کا سایۂ دیوار دیکھ کر
—
آنکھوں کے تصادم میں حکایات کی دنیا
ہونٹوں کے تصادم میں خرابات کا عالم
—
تخلیقِ کائنات کے دلچسپ جرم پر
ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی
—
توبہ کا تکلف کون کرے حالات کی نیت ٹھیک نہیں
رحمت کا ارادہ بگڑا ہے برسات کی نیت ٹھیک نہیں
—
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
اے گردشِ ایّام میں کچھ سوچ رہا ہوں
—
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا
—
جن سے انساں کو پہنچتی ہے ہمیشہ تکلیف
ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اصل خدا والے ہیں
—
جیب خالی ہے عدمؔ مے قرض پر ملتی نہیں
ایک دو بوتل پہ دیواں بیچنے والا ہوں میں
—
دروغ کے امتحاں کدے میں سدا یہی کاروبار ہوگا
جو بڑھ کے تائید حق کرے گا وہی سزاوار دار ہوگا
—
سو بھی جا اے دلِ مجروح بہت رات گئی
اب تو رہ رہ کے ستاروں کو بھی نیند آتی ہے
—
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند
مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
—
زخمِ دل کے اگر سیے ہوتے
اہلِ دل کس طرح جیے ہوتے
……………………….