پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

تنہائی کئی سال میری نظریں کمرے کے دروازے پر جمی ر…

تنہائی

کئی سال میری نظریں کمرے کے دروازے پر جمی رہیں
میری آنکھیں تمھارے قدموں کی راہ دیکھتی رہ گئیں
ہر کھلتے دروازے کے ساتھ محسوس ہوا کہ تو آیا
بہت سے آنے والے
ہم میں سے بہت سوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر چلے گئے
تمھاری راہ تکتے تکتے ہماری آنکھیں غموں کی مقروض ہوگئیں
لیکن تم نہ آئے
اب میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر دیگر لوگوں کی طرح اسی سوچ میں مبتلا ہوں
کہ تم کبھی نہیں لوٹو گے
زندگی کے تمام تر تلخ تجربات کی بدولت میں یہ جان چکا ہوں
کہ میرا مقدر اس کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنا ہے
مجھے معلوم ہے تم کبھی تھے ہی نہیں،
میں نے جتنے سال تمھارا انتظار کیا وہ تمام دورانیہ رائگاں گیا.
اور اب بہت سال بیت جانے کے بعد
اب میں پہلے کی طرح تنہا
اور اپنوں کے لیے بند ہوچکا ہوں
کیا ہی دلخراش سکون ہے!
کس قدر یقینی مذاق ہے!
تاہم ان تمام سالوں میں میں سکون اور سچائی کی اس نہج پر پہنچ چکا ہوں
جس سے میں سالوں سے واقف تھا
مجھے اپنی تنہائی پر فخر ہونے لگا ہے
مجھے اب یقین ہوچکا ہے کہ تم سوائے سراب کے کچھ نہیں تھے
اگر تم واقعی میں بھی ہو تو میں اب کی بار تمھارے لیے دروازے نہیں کھولوں گا
میرا دل اب کمزور نہیں رہا،
میرا کٹھن وقت بھی گزر چکا ہے
سانسوں کا بے ترتیب ہونا اور محبت کی قحط سالی سوائے یادداشت کے اور کچھ نہیں

ڈاکٹر علی شریعتی
مترجم : تنویر حسین


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2766601430237039