" تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں "
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
تم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو
بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کو
شرارتوں پر ابھارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
لہو کو شعلہ بدست کر دیں
یہ پتھروں کو بھی مست کر دیں
حیات کی سوکھتی رتوں پر
بہار کا بند و بست کر دیں
کبھی گلابی کبھی سنہری
سمندروں سے زیادہ گہری
تہوں میں اپنی اتارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
حیا بھی ہے ان میں شوخیاں بھی
یہ راز بھی اپنی ترجماں بھی
ریاستِ حسن و عشق کی ہیں
رعایا بھی اور حکمراں بھی
وہ کھو گیا یہ ملی ہیں جس کو
یہ جیتنا چاہتی ہے جس کو
اُسی سے دراصل ہارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
کشش کا وہ دائرہ بنائیں
حواس جس سے نکل نہ پائیں
میں اپنے اندر بکھر سا جاؤں
سمیٹنے بھی نہ مجھ کو آئیں
عجب ہے انجان پن بھی ان کا
میں ان کا،اور میرا فن بھی ان کا
خموش رہ کر پکارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
(مظفر وارثی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
Your eyes are naughty
You are hidden behind you
Look closely to me
The envy is on envy
Your eyes are naughty
Make the blood a flame
Make these stones mast too
On the dry friends of life
Stop the spring.
Sometimes pink sometimes golden
Deeper than seas
I am in the hands of my own.
Your eyes are naughty
There is a shame in them too.
This secret is also its own.
The officially of beauty and love.
People and leaders too
He lost this is found to whom
This wants to win whom
This is what we actually lose.
Your eyes are naughty
Create that circle of attraction
The one who can't get out of it
I am scattered inside myself
Don't even come to me together
It is strange that unknown pin is also their
Me of them, and my art too their
They cry after being detained.
Your eyes are naughty
(Muzaffar Warsi)
Al-ạlmrsl :-:
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔