تبسم کاشمیری کا یومِ پیدائش January 29, 1940 ایک ن…
تبسم کاشمیری کا یومِ پیدائش
January 29, 1940
ایک نظم
اے پرندے کیا تو گاتا ہے
ان پیڑوں پر
جن کے سایوں تلے
ہم سوتے تھے
ان پلوں پر
جہاں ہم مسافر گھنٹیوں کی آوازیں سنتے تھے
اے ہوا کیا تو چلتی ہے
ان گھروں پہ
جہاں ہم کبھی رہتے تھے
ان دروازوں پہ
جہاں وہ دستک دیتی تھی
اے روشنی کیا تو چمکتی ہے
ان دیواروں پر
جہاں ہم نے ترکش لٹکائِے تھے
ان طاقوں پر
جہاں ہم اپنے خوابوں کے
خریطے بھول آئے تھے
اور ان راہ داریوں پر
جہاں ہم نے ایک دوست ستارے کو
آخری پیار کیے تھے!!!
( تبسم کاشمیری)