اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

بیٹا! تم راشن بھجواتے ہو، میرا باورچی خانہ بھر جا…


💥 بیٹا! تم راشن بھجواتے ہو، میرا باورچی خانہ بھر جاتا ہے۔ تم بل بھرتے ہو، گھر روشن ہو جاتا ہے۔ مگر جب تم خود آتے ہو نا… تو یہ ماں جی اٹھتی ہے۔” <3 <3 💥

میں اپنی ماں کے گھر نہیں جاتا تھا… حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ میرا اور اُن کا گھر ایک ہی دیوار کے دو رخ تھے۔ ہم سایہ بھی ایسے کہ میرے پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز اُن کے کمرے تک جاتی تھی، مگر اس قربت کے باوجود میں اُن کی زندگی سے رفتہ رفتہ منہا ہو رہا تھا۔

وہ پینسٹھ برس کی ہو چکی تھیں…

اُن کی ضرورتوں کا میں نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ کسی کو شکایت کی گنجائش نہ ملتی۔ شہر کے بہترین اسٹور سے راشن ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو وہاں پہنچ جاتا، یوٹیلیٹی بلز میرے موبائل سے خودکار طریقے سے ادا ہو جاتے، اور ہر دوسرے چوتھے دن میں کسی ملازم یا ڈرائیور کے ہاتھ پھل یا دوا بھجوا کر اپنے ضمیر کو ایک میٹھی لوری سنا دیتا کہ "میں نے حقِ فرزندی ادا کر دیا ہے”۔

میں ایک کامیاب انسان تھا، اور میری کامیابی کی گہما گہمی میں ‘ماں’ ایک ایسی ذمہ داری بن گئی تھی جسے میں ‘منیج’ (Manage) تو کر رہا تھا، مگر جی نہیں رہا تھا۔

ہمارے گھروں کے درمیان بس ایک دیوار تھی… مگر فاصلے کئی صدیوں کے تھے۔

کبھی کبھار، ہفتے عشرے بعد، جب میں گاڑی سے اترتا اور اتفاق سے وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی ہوتیں، تو میں وہیں سے اونچی آواز میں پوچھ لیتا، "امّی! طبیعت کیسی ہے؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟”

وہ پانی کا پائپ ایک طرف رکھتیں، چہرے پر ایک ادھوری مسکراہٹ سجاتی اور کہتیں، "میں ٹھیک ہوں بیٹا، سب کچھ تو ہے میرے پاس۔ بس تم اپنی صحت کا خیال رکھا کرو۔”

اور میں "جی بہتر” کہہ کر اپنے گھر کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں گم ہو جاتا۔ میں سمجھتا تھا کہ ضرورتیں پوری کر دینا ہی محبت ہے، مگر میں یہ بھول گیا تھا کہ پیٹ بھرنے اور روح سیراب کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔

پھر ایک شام… فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔ میں اپنے ٹیرس پر کھڑا فون پر کسی بزنس ڈیل میں الجھا ہوا تھا کہ دیوار کی دوسری جانب سے ایک دھیمی سی صدا آئی۔

وہ امّی کی آواز تھی۔ وہ کسی سے بات کر رہی تھیں۔

میں نے تجسس میں فون کان سے ہٹایا۔ دوسری طرف کوئی نہیں تھا، وہ فون پر نہیں بلکہ خود کلامی کر رہی تھیں یا شاید صحن میں بیٹھی اس بلی سے مخاطب تھیں جو اکثر وہاں دھوپ سینکنے آتی تھی۔

"دیکھو مانو! آج میرا بیٹا گھر آ گیا ہے۔ ابھی اُس کی گاڑی کی آواز آئی تھی۔ آج شاید وہ ادھر آئے۔ آج میں نے اُس کی پسند کے شامی کباب منگوائے ہیں۔”

میرا دل جیسے مٹھی میں آ گیا۔ میں نے کئی ہفتوں سے اُن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ کباب تو کیا، میں نے تو اُن کے ہاتھ کی چائے پیے بھی مدتیں گزر گئی تھیں۔

میں نے فوراً اپنے گھر کا دروازہ بند کیا اور اُن کی چوکھٹ پر جا پہنچا۔

دروازہ کھلا تھا، جیسے ہمیشہ رہتا تھا۔ وہ وہیں پرانی کرسی پر بیٹھی تھیں، سامنے والی میز پر تانبے کی صراحی اور چائے کا ایک خالی کپ رکھا تھا۔

"آ گئے؟” انہوں نے مجھے دیکھ کر ایسے کہا جیسے انہیں یقین تھا کہ میں آؤں گا۔

میں نے تھوڑی شرمندگی سے پوچھا، "آپ کو کیسے پتا تھا کہ میں آؤں گا؟”

وہ ہلکا سا ہنس دیں، وہ پینسٹھ سالہ بوڑھی مسکراہٹ کتنی معصوم تھی۔ "بیٹے! میں نے تمہارے قدموں کی آہٹ کو پہچاننے کے لیے آنکھیں نہیں، دل لگا رکھا ہے۔ تم دیوار کے اس پار بھی چہل قدمی کرتے ہو تو مجھے تمہارے جوتوں کی چاپ سے پتہ چل جاتا ہے کہ تم پریشان ہو یا خوش۔”

مجھے لگا جیسے کسی نے میرے پیروں تلے سے زمین نکال لی ہو۔ میں تو سمجھتا تھا کہ میں اپنی زندگی کی دوڑ میں بہت آگے نکل گیا ہوں، مگر وہ تو اس دیوار کے پیچھے بیٹھی میری ہر آہٹ کی چوکیدار بنی ہوئی تھیں۔

"امّی… میں نے راشن بھجوا دیا تھا، وہ مل گیا تھا نا؟” میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔

انہوں نے میرا ہاتھ تھاما۔ اُن کے ہاتھ اب اتنے سخت نہیں رہے تھے، مگر ممتا کی گرفت اب بھی وہی تھی۔ "بیٹا! تم راشن بھجواتے ہو، میرا باورچی خانہ بھر جاتا ہے۔ تم بل بھرتے ہو، گھر روشن ہو جاتا ہے۔ مگر جب تم خود آتے ہو نا… تو یہ ماں جی اٹھتی ہے۔”

اُس دن مجھے احساس ہوا کہ ہم پاکستانی معاشرے میں ‘فرمانبردار اولاد’ بننے کی دوڑ میں اکثر ‘محبت کرنے والی اولاد’ بننا بھول جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماں باپ کو آرام دہ بستر، بہترین علاج اور ڈھیروں سہولیات دے کر ہم نے قرض اتار دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپے میں انسان کو سہولتوں کی نہیں، صحبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہیں پیسوں کے ترازو میں نہیں، وقت کے پیمانے میں تولیے۔

میں اُس شام وہیں رکا۔ ہم نے ڈھیروں باتیں کیں، وہی پرانی باتیں جو میں ہزار بار سن چکا تھا، مگر اُس دن وہ باتیں مجھے کسی نئی کہانی کی طرح لگ رہی تھیں۔

جب میں اٹھنے لگا تو انہوں نے کہا، "کل پھر آؤ گے نا؟”

میں نے مسکرا کر اُن کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، "امّی! اب میں کہیں نہیں جا رہا۔ دیوار وہیں رہے گی، مگر یہ فاصلہ اب کبھی نہیں رہے گا۔”

یاد رکھیے! ماں باپ کے پاس اب "اگلے برس” یا "اگلے مہینے” جتنی مہلت نہیں ہوتی۔ ان کے پاس صرف "آج” ہوتا ہے۔ اگر آپ کے گھر کے ساتھ بھی کوئی ایسی دیوار ہے، تو آج ہی اُس دیوار کا خلا پُر کر دیجیے۔

کیونکہ کسی دن راشن بھی آئے گا، بل بھی ادا ہوں گے، مگر وہ آہٹ سننے والے کان اور دعا دینے والے ہاتھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے ہوں گے۔

~Intikhaab-E-Sukhan~