بیس سال پہلے اُس عورت نے سماج کی بندشوں کو توڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ گھر سے نکل ک…
بیس سال پہلے اُس عورت نے سماج کی بندشوں کو توڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ گھر سے نکل کر شادی کی تھی۔
وہ فیصلہ اُس وقت ایک بغاوت سمجھا گیا، مگر آنے والے بیس برس اُس کی زندگی کے سب سے حسین سال ثابت ہوئے۔
اُس کا شوہر اُس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا،
اُس کی خوشی، اُس کی خواہشات، اُس کی خاموشیوں تک کو سمجھتا تھا۔
ایک سال بعد وہ ایک بیٹی کی ماں بنی، اور وہ مرد… اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔
وہ بیٹی اُس کے لیے سانسوں کی طرح عزیز تھی۔
زندگی پُرسکون چل رہی تھی، یہاں تک کہ چند دن پہلے ایک بحث نے سب کچھ بدل دیا۔
شوہر چاہتا تھا کہ بیٹی گریجویشن کے فوراً بعد شادی کر لے،
جبکہ ماں کا دل کہتا تھا کہ بیٹی کو مزید پڑھنے کا حق ملنا چاہیے۔
بحث تلخ ہوئی… اور پھر ایک جملہ ادا ہو گیا۔
“میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی میری مرضی کے بغیر شادی کرے،
جیسے تم نے کی تھی۔”
بس…
بیس سال میں تعمیر ہونے والا وہ محل ایک لمحے میں زمین بوس ہو گیا۔
شوہر کی کوئی وضاحت، کوئی صفائی، کوئی ندامت
اُس عورت کے دل کو تسلی نہ دے سکی،
اج پہلی بار اُس کو اَحساس ہوا تھا کہ
وہ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں سے اس نے
اپنے گھر سے پہلا قدم باہر نکالا تھا۔
شاداب اصغر
Source