بام و در پر ایک سنّاٹا عزا کرتا تھا رات
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
شہرِ ہوُ میں ایک ویرانی کا لشکر صف بہ صف
ہر طرف تاراج بازار و سرا کرتا تھا رات
اس خرابی کے مکاں میں ایک سایہ ایک نقش
ہم کلامی مجھ سے بے صوت و صدا کرتا تھا رات
اِک غبارِ ساعتِ رفتہ کسی محراب سے
میرے چہرے میرے آگے رونما کرتا تھا رات
طاقِ تنہائی سے اُٹھتا تھا چراغوں کا دُھواں
اور مرے ہونے سے مُجھ کو آشنا کرتا تھا رات
وہم دِکھلاتا تھا مُجھ کو روشنی کی تیرگی
وہم ہی میرے اندھیرے پر جلا کرتا تھا رات
روشنی کے ایک ربطِ رائیگاں کے باوجود
اِک خلا آنکھوں سے منظر کو جُدا کرتا تھا رات
تھا مرے باطن میں کوئی قصہ گو، وہ کون تھا
مجھ سے اِک طرفہ حکایت ماجرا کرتا تھا رات
ہو گیا تھا تاجِ سر میرے لیے سودائے سر
سایۂ شب سر بسر کارِ ہما کرتا تھا رات
زہر شب میں کوئی دارو کارگر ہوتی نہ تھی
ہاں مگر اِک زہر شب جو فائدہ کرتا تھا رات
جسم میں میرا لہو درویشِ گرداں کی طرح
لحظہ لحظہ پائے کوبی جا بجا کرتا تھا رات
زرد پتوں کے بِکھرنے کی خبر دیتا ہوا
رقص میرے صحن میں پیکِ ہوا کرتا تھا رات
میں کوئی گوشہ گزیں، ترکِ وفا کا نوحہ گر
دیر تک تحریر تعویذِ وفا کرتا تھا رات
کیا بشارت غرفہِ حیرت سے کرتی تھی نزُول
کیا کرامت میرا حرفِ نارسا کرتا تھا رات
بند میرے کھولتا تھا کوئی آ کر خواب میں
جاگتے میں پھر مُجھے بے دست و پا کرتا تھا رات
رنگ روشن تھا سوادِ جاں میں اِک تصویر کا
ایک چہرہ میری آنکھیں آئینہ کرتا تھا رات
مجھ کو اپنا ہی گماں ہوتا تھا ہر تمثال پر
کوئی مجھ سے کاروبارِ سیمیا کرتا تھا رات
صُبح سورج نے اُسی حُجرے میں پھر پایا مُجھے
میں کہاں تھا کیا خبر عرفانؔ کیا کرتا تھا رات
عرفانؔ صدیقی
المرسل: فیصل خورشید

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔