ایک بار جمعہ کی نماز سے قبل میں ایک بابا جی کے پاس بیٹھا تھا ۔ اور اسپیکر پر ایک مولانا تقریر فرما رھے تھے ( وہ مولانا دوزخ کی سزاؤں کے بارے میں بتا رھے تھے )
وہ بابا جی کافی دیر خاموشی سے مولانا کی تقریر کو توجہ سے سنتے رھے پھر اچانک مجھ سے مخاطب ھُوئے ۔
انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ ، "یہ مولانا جو جو لوگوں کو خدا سے ڈرا رھے ھیں ۔اور بڑے بڑے سانپوں اوردھکتی آگ کا ذکر کر رھے ہیں ۔کیا یہ مسجد میں آئے ان لوگوں کو یہاں سے بھگانا چاھتے ھیں ؟ ” ۔
میں نے کہا ، "بابا جی اِس میں بھگانے والی کوئی بات نہیں ۔ یہ لوگوں کو شاید اس لیے خوف دلا رھے ھیں کہ وہ بُرے کاموں سے اجتناب کریں ۔
بابا جی کہنے لگے ، "کیا مسجد میں لوگ خدا کے ڈر سے نہیں آتے ؟ ۔ اور کیا وہ بُرے کاموں سے اِجتناب خدا کی محبت میں نہیں کر سکتے ؟ "۔
اب میں انہیں کیا جواب دیتا ۔
وہ کہنے لگے ، "پتر !! ایک خدا جو انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت رکھتا ھے ، جس مٹی کے پتلے کو اُس نے بہترین ساخت پر بنایا ھے کیا وہ ستر ماؤں کا پیار ایک طرف رکھ کر انہیں دھکتی ھُوئی آگ میں پھینکے گا "۔
"اشفاق احمد”
زاویہ 3 کارڈیک اریسٹ” سے اقتباس”
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔