آج میرے ہاتھ ایک ایسی کتاب آگئی، جس میں ہسپانوی م…
آج میرے ہاتھ ایک ایسی کتاب آگئی، جس میں ہسپانوی مصور گویا (Francisco Goya) کی بعض تصویریں ہیں۔ ان میں ایک پرہول تصویر خاص طور پر میری توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ ایک قبر کی تصویر ہے، جس کے لیے مصور نے سیاہ رنگ استعمال کیا ہے۔ قبر کے غلاف کے نیچے سے ایک ہاتھ جس پر سوائے ہڈیوں کے اور کچھ باقی نہیں رہا، نکل کر ایک دھندلی تختی تک جا پہنچتا ہے اور اس پر اپنی ایک انگلی سے ہسپانوی زبان کا لفظ "نادا" رقم کررہا ہے جس کے معنی ہیں: "عدم، لا شئے۔"
کوئی شک نہیں کہ فنا ہمارے وجود کا ایک حصہ ہے، لیکن فن سرمدی ہے اور باقی رہتا ہے اور ایک فنکار کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات پر فنا مسلط ہے اور یہاں جو کچھ بھی ہے عارضی ہے تو وہ ایک چیز تخلیق کرنا چاہتا ہے جو اس کے بعد باقی رہے۔
گویا نے انسانیت کو دو طبقوں میں تقسیم کررکھا تھا: ایک وہ رحم و شفقت کے لائق ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو نفرت اور غیظ و غضب کا سزاوار ہوتا ہے اور اس کا ایمان تھا کہ کسی بھی انسان کا المیہ کسی دوسرے انسان کا لایا ہوا ہوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جنگ، جبر و ظلم، اخلاقی افلاس اور اس طرح کی دوسری برائیاں ہی گویا کے اکثر فن پاروں کی تخلیق کا سبب بنیں۔ انہی سے اس کے فن پر اخلاقیت کا رجحان غالب ہوا۔ گویا کے ہاں فن بذاتِ خود مقصود نہیں تھا، بلکہ اس کے خیالات کے ابلاغ کا ایک ذریعہ تھا۔
******
عرب شاعرہ 'فدویٰ طوقان' کی ڈائری کا ایک ورق، مترجم: محمد کاظم،
کتاب: عربی ادب کے مطالعے، ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2850606408503207