اِن دنوں آپ جہاں تخت نشیں ہوتے ہیں آپ نے دیکھا ن…
اِن دنوں آپ جہاں تخت نشیں ہوتے ہیں
آپ نے دیکھا نہيں ہم بھی وہیں ہوتے ہیں
جی تو کرتا ہے تجھے روز مِلا جائے، مگر
کبھی فرصت ‘ کبھی حالات نہيں ہوتے ہیں
اِن ستاروں پہ کرے کیسے بھروسہ کوئی
یہ دکھائی کہیں پڑتے ہیں کہیں ہوتے ہیں
ہاں ! کوئی ایک ہوا کرتا ہے میرے جیسا
سارے اِنسان تو پتھر کے نہيں ہوتے ہیں
میں کسی شخص کو پاگل نہيں ہونے دیتا
یہ جو ہوتے ہیں یہاں اپنے تئیں ہوتے ہیں
اچھا کرتے ہیں کئی لوگ بچھڑ کر ہم سے
یعنی سب فیصلے بے کار نہيں ہوتے ہیں
اُس سے مِل کر مجھے اندازہ ہوا ہے’ عامی
آنکھیں اچھی ہوں تو چہرے بھی حسیں ہوتے ہیں
(عمران عامی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی