او بھلے مانس! گل ذرا دھیان نال سن۔۔۔ یہ جو تم دن رات کتابوں کے ورق الٹتے ہو، یا…
او بھلے مانس! گل ذرا دھیان نال سن۔۔۔
یہ جو تم دن رات کتابوں کے ورق الٹتے ہو، یا موبائل کی اسکرین پر دنیا جہان کی معلومات اپنے دماغ میں ٹھونستے رہتے ہو، اس کو "سیکھنا” نہیں کہتے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے تم نے باورچی خانے میں آٹا، دال، چاول اور گھی کے ڈھیر لگا لیے ہوں، لیکن ہانڈی چولہے پر چڑھائی ہی نہ ہو۔ اب راشن جمع کرنے سے تو پیٹ نہیں بھرتا نا؟ پیٹ تب بھرتا ہے، ذائقہ تب آتا ہے جب ہانڈی پکتی ہے۔
دیکھ پتر! سیکھنے کا اصل راز "جمع کرنے” میں نہیں، کچھ "بنانے” میں ہے۔
مطالعہ کیا ہے؟ یہ تمہیں صرف شعور دیتا ہے، جیسے اندھیرے میں کسی نے لالٹین جلا دی ہو۔ منصوبہ بندی کیا ہے؟ یہ تمہیں نقشہ دکھاتی ہے کہ راستہ ادھر کو جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھ! نقشہ جتنا مرضی خوبصورت ہو، وہ تمہیں منزل پر پہنچا نہیں سکتا۔ منزل کی طرف سفر اسی لمحے شروع ہوتا ہے جب تم اپنی جگہ سے ہلتے ہو اور پہلا قدم اٹھاتے ہو۔
یہ جو عمل (Action) ہے نا، یہ بڑا ظالم اور سچا استاد ہے۔ جب تم میدان میں اترتے ہو، ہاتھ پاؤں ہلاتے ہو، تو غلطیاں ہوتی ہیں۔ اور ہونی بھی چاہئیں! کیونکہ یہی غلطیاں تمہارے کچے پن کو بے نقاب کرتی ہیں۔ جب تک تم ٹھوکر نہیں کھاؤ گے، تمہیں زمین کی سختی اور اپنے پاؤں کی کمزوری کا پتہ کیسے چلے گا؟ پانی میں اترو گے، ہاتھ پیر مارو گے، غوطے کھائو گے، ناک میں پانی جائے گا سانس پھولے گا تبھی جا کر تیراک بنو گے ناں!
سکوٹر چلانا شروع کرو تو وج وجا کر ہی سیدھا ہوتا ہے بندہ!
یہی غلطیاں تمہیں وہ "سمجھ بوجھ” عطا کرتی ہیں جو کسی یونیورسٹی کی ڈگری میں نہیں لکھی ہوتی۔ جب کوئی چیز تمہارے ہاتھ سے خراب ہوتی ہے، تو تم سیکھتے ہو کہ اسے ٹھیک کیسے کرنا ہے۔ بس اسی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر "مہارت” کی اونچی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
تو اب میری یہ نصیحت اپنے پلے باندھ لو، گرہ لگا لو:
چھوٹے پیمانے سے شروع کرو: بڑے بڑے محلوں کے خواب دیکھنے سے پہلے ایک چھوٹی سی دیوار تو سیدھی کر لو۔
کچا پکا جیسا بھی ہے، بسم اللہ کرو: کام کے "پرفیکٹ” ہونے کا انتظار نہ کرو۔ پرفیکشن صرف خدا کی ذات میں ہے، انسان تو غلطیوں کا پتلا ہے۔ شروع کرو، چاہے کام ادھورا ہی کیوں نہ لگے۔
مرمت کرنا سیکھو: جو چیز ٹوٹ جائے، اس پر رونا نہیں، اسے جوڑنا ہے۔ اور جو چیز چل پڑے، اسے مانجھ کر چمکا لو۔
اور آخری بات، جو سب سے قیمتی ہے: یہ "خود اعتمادی” (Confidence) کوئی بازار سے ملنے والی پڑیا نہیں ہے کہ خریدی اور کھا لی۔ یہ کسی سے ادھار نہیں ملتی۔ یہ تو لوہار کی بھٹی کی طرح ہے، جب تم عمل کی آگ میں تپتے ہو، گر کر سنبھلتے ہو، تب جا کر یہ کندن بنتی ہے۔ یہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے، تمہارے پسینے کا اجر۔
ترقی کا بس یہی ایک سیدھا اور سچا راستہ ہے—باقی سب دل بہلانے کی باتیں ہیں۔ اٹھو! رب سوھنڑے کا نام لے کر مٹی گوندھنا شروع کرو، کوزہ تب ہی بنے گا-
منتخب
Source