اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی – …
اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
– آرزو لکھنوی
اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی
قید کو توڑ کے نکلا جب میں اُٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے
دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی
ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر…
