اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ افسانے

انگریزی ادب سے ماخوذ ؛ جب کوئی بھیڑیا دوسرے بھیڑیے سے لڑائی ہار جاتا ہے اور یہ ج…


انگریزی ادب سے ماخوذ ؛
جب کوئی بھیڑیا دوسرے بھیڑیے سے لڑائی ہار جاتا ہے اور یہ جان لیتا ہے کہ اب جیتنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا، تو وہ ایک حیرت انگیز کام کرتا ہے: وہ بڑے سکون سے اپنی گردن اپنے مخالف کے سامنے کر دیتا ہے—گویا یہ کہہ رہا ہو:
“میں شکست قبول کرتا ہوں، اب اسے یہیں ختم ہو جانا چاہیے۔”

اور اسی لمحے ایک غیر معمولی بات ہوتی ہے۔ فاتح بھیڑیا رک جاتا ہے۔
نہ ہچکچاہٹ کی وجہ سے، نہ خوف کے باعث، بلکہ کسی ایسی گہری حقیقت کی بنا پر جو جبلّت سے بھی آگے ہے—ایک ایسا اصول جو اس نسل جتنا ہی قدیم ہے۔ فطرت میں پیوست ایک قدیم طاقت، جو فاتح کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ اس کو قتل کرے جو خود کو تابع اور مغلوب ظاہر کر چکا ہو۔

یہ غیر تحریری ضابطہ، جو شاید ڈی این اے میں نقش ہے—یا شاید اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم کسی چیز میں—بھیڑیے کو یاد دلاتا ہے کہ جھنڈ (گروہ) کی بقا ذاتی فتح سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ کہ زندگی، دشمن کو مٹا دینے کی تسکین سے زیادہ قیمتی ہے۔

جو بھیڑیا خود کو جھکا دیتا ہے، اسے کوئی بزدل نہیں کہتا۔
اور جو بھیڑیا لڑائی ختم کر سکتا تھا مگر جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتا، اسے کوئی کمزور نہیں کہتا۔

یہاں نہ کوئی فاتح ہے، نہ کوئی مفتوح۔
صرف دو بھیڑیے ہیں جو وہاں سے ہٹ جاتے ہیں، اور ایک زندگی ہے جو آگے بڑھتی رہتی ہے۔

کاش انسان بھیڑیوں سے سیکھ لیتے—
اور غرور، انا اور طاقت کی ہوس میں ایک دوسرے کو چیر پھاڑنے کے بجائے سمجھداری اختیار کرتے۔
جواب تو شروع ہی سے ہمارے سامنے موجود ہیں، فطرت کی زبان میں صاف صاف لکھے ہوئے۔



Source