اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

افتخار امام صدیقی تُو نہیں تو زندگی میں اور کیا …


افتخار امام صدیقی

تُو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
دُور تک تنہائیوں کا سِلسِلہ رہ جائے گا

کیجیے کیا گفتگو، کیا اُن سے مِل کر سوچئے
دِل شِکستہ خواہشوں کا ذائِقہ رہ جائے گا

درد کی ساری تَہیں اور سارے گُزرے حادثے
سب دُھواں ہو جائیں گے، اِک واقعہ رہ جائے گا

یہ بھی ہوگا، وہ مُجھے دِل سے بُھلا دے گا ، مگر
یُوں بھی ہوگا ، خُود اُسی میں اِک خلا رہ جائے گا

دائِرے اِنکار کے، اِقرار کی سرگوشِیاں
یہ اگر ٹُوٹے کبھی ، تو فاصلہ رہ جائے گا

افتخار امام صدیقی