پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے دیوا…


اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے
دیوانہ سمجھ کر ہی ان کے ہونٹوں پہ مرا نام آ جائے

میں خوش ہوں اگر گلشن کے لیے کچھ میرا لہو کام آ جائے
لیکن مجھ کو ڈر ہے اس کا گلچیں پہ نہ الزام آ جائے

اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے
اک چاند فلک پر نکلا ہو، اک چاند سرِ بام آ جائے

مے خانہ سلامت رہ جائے اس کی تو کسی کو فکر نہیں
مے خوار ہیں بس اس خواہش میں ساقی پہ کچھ الزام آ جائے

پینے کا سلیقہ کچھ بھی نہیں اس پر ہے یہ خواہش رندوں کی
جس جام پہ حق ہے ساقی کا ہاتھوں میں وہی جام آ جائے

اس واسطے خاکِ پروانہ پر شمع بہاتی ہے آنسو
ممکن ہے وفا کے قصے میں اس کا بھی کہیں نام آ جائے

افسانہ مکمل ہے لیکن افسانے کا عنواں کچھ بھی نہیں
اے موت بس اتنی مہلت دے ان کا کوئی پیغام آ جائے

(انور مرزا پوری)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی