اسلام میں شاعری کی حیثیت اور متعلقات شعر پر ایک تحقیقی نظر
حصہ چہارم
میں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو اس وقت میری عمر دس (۱۰) برس تھی۔ جب تیرہ چودہ برس کا ہوا تو فارسی میں ٹوٹے پھوٹے مصرعے جوڑ لیتا تھا۔ میرے استادِ محترم حضرت مولانا فتح محمد صاحب علیہ الرحمۃ عربی اور فارسی ادب کے علاوہ اردو ادبیات پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔ مگر طبعا شعری ذوق بہت کم پایا تھا۔ جب ذرا میری شاعری کی شہرت ہوئی اور حضرت بابو جی ؒ کی موجودگی میں میرا کلام محبوب قوال مرحوم پڑھنے لگے تو استاد صاحب کو فکر لاحق ہوئی کہ میری ساری توجہ عربی اور فارسی کی درسی کتب سے ہٹ کر صرف شعری فکر کی نظر ہو جائے گی تو مجھے سختی سے روکنا شروع کر دیا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اس وقت فارسی فاضل کی تیاری کر رہا تھا اور اس وقت میری عمر چودہ برس تھی۔ جب میں شعر گوئی سے باز نہ آیا تو ایک دن استاد صاحب نے پڑھاتے پڑھاتے کتاب بند کر دی اور مجھ سے فرمانے لگے اگر تو واقعتاً شاعر ہے تو اس مصرعہ پر میرے سامنے شعر کہہ کر دکھا۔ اس وقت مولوی ممتاز احمد چشتی میرے ہم سبق تھے۔ ان کو میرے پاس سے اٹھا دیا، ایک گھنٹے کا وقت دے کر چھڑی لے کر میرے آس پاس گھومنے لگ گئے۔ چھڑی کا سر پر منڈلاتا ہوا خوف اور پھر شعر گوئی کا لطیف ذوق ہر چند یہ دونوں متضاد چیزیں تھیں۔ مولوی ممتاز صاحب کو بھی شعر گوئی سے مس تھا۔ انہوں نے میری مدد کرنا چاہی مگر استاد صاحب نے انہیں میرے پاس پھٹکنے نہ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ استاد محترم نے خواجہ حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ بہ طورِ طرح دیا تھا:
سینہ مالا مالِ درد است اے دریغا ہمدمے
پورا شعر جو غزل کا مطلع بھی ہے یوں ہے:
سینہ مالا مالِ درد است اے دریغا ہمدمے
جاں ز تنہائی بجاں آمد خدا را ہمدمے
اسی زمین میں میرے جد امجد حضرت پیر مہر علی شاہ قدس سرہ نے بھی غزل کہی جس کا مطلع یہ ہے
سینہ مالا مال درد است و بجوید ہر دمے
درد بر درد دگر زخمے بجائے مرہمے
میں نے اس وقت جو مطلع کہا وہ یہ تھا:
ایکہ نامت بر زبانِ ما غریباں ہر دمے
وے کہ یادت مونسِ ہر بیدلے در ہر غمے
یہ پوری غزل میرے فارسی مجموعۂ غزلیات "عرش ناز” میں چھپ چکی ہے کیوں کہ وہ ابتدائی دور تھا، اس لیے بعد میں جب مجموعۂ کلام میں اسے شامل کیا تو مناسب تبدیلیاں بھی کی تھیں صرف بتانا یہ مقصود تھا کہ میری شاعری کا امتحان لیا گیا کہ میں شاعر بھی ہوں کہ نہیں اور جب سامنے بٹھا کر اور سر پر کھڑے ہو کر مجھ سے شعر کہلوائے گئے اور میں بحمد اللہ اس امتحان میں کامیاب نکلا تو استاد صاحب کو میرے شاعر ہونے کا یقین ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے سرخرو کیا اور میں نے یوں ایک گھنٹے میں گیارہ شعر کہہ لیے اور استاد صاحب کی خدمت میں پیش کر دیے، اشعار پڑھ کر استاد صاحب ؒ نے مولوی ممتاز صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں سمجھتا تھا کہ یہ غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور کسی دوسرے سے شعر کہلوا کر اپنے نام سے منسوب کر دیتا ہے۔ مگر آج پتہ چلا کہ یہ کم بخت کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہے۔ تب جا کر میری جان چھوٹی میں نے اپنے استاد بھائی مولوی ممتاز سے استاد صاحبؒ کے تشریف لے جانے کے بعد کہا کہ اگر آج مولانا فتح محمد صاحب جیسے سخت گیر ممتحن کے کاغذوں میں میری شاعری ثابت ہو گئی تو ان شاء اللہ کل میرا شاعر ہونا مسلم سمجھو۔ چوں کہ میری شاعری کا نہ صرف امتحان ہوا بلکہ وہ بھی سر میدان ہوا۔ اس لیے میں اس شاعر کو تسلیم کرتا ہوں جو میدان میں اتر کر اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے اور اپنی خداداد علمی و ادبی استعداد کا لوہا منوائے۔ بعض لوگ شعر نہ کہہ سکنے کی صورت میں یہ عذرِ لنگ پیش کرتے ہیں کہ بھائی ہم تو آمد کے قائل ہیں آورد کے نہیں جب کبھی طبیعت شعر گوئی پر آمادہ ہوتی ہے اور مضامین کا نزول ہوتا ہے تو شعر کہتے ہیں۔ یہ سب دھوکہ ہوتا ہے اور ایسے لوگ شعرنہ کہہ سکنے کے عیب کو ایسی باتیں کر کے چھپاتے ہیں۔ مشق سخن ایسی چیز ہے کہ انسان خلاف طبیعت بھی شعر کہہ سکتا ہے۔ علامہ سیماب اور ان جیسے اکابر اساتذۂ سخن کو یہ کمال حاصل تھا۔ کسی نے امتحانا یا فرمائش کے طور پر چند شعر کہنے پر اصرار کیا تو اگر چہ وہ ذہنی طور پر شعر کہنے کے موڈ میں نہ ہوتے تھے مگر مشق سخن گوئی کا یہ حال تھا کہ بات کرنا اور شعر کہہ لینا ان کے لیے برابر تھا۔زبان وبیان پرقدرتِ کامل شعرگوئی کی بنیاد ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ اگر شاعر کی اپنی طبیعت شعر گوئی پر آمادہ ہو تو ایسا کلام ہر اعتبار سے بلند تر ہوتا ہے مگر یہ کہنا کہ جو فطری طور پر موزوں طبع ہو وہ بغیر موڈ کے شعر کہہ ہی نہیں سکتا۔ یہ بالکل غلط اور خلافِ تجربہ بات ہے۔
میں نے چند سطور قبل اپنے بچپن کا واقعہ تحریر کیا، ایک تو طبیعت کے خلاف اور پھر عالم ہراس میں شعر کہے تھے جیسے بھی ٹوٹے پھوٹے شعر تھے ، مگر بحمد اللہ اوزان شعر سے خارج نہ تھے، بلکہ پورے وزن میں تھے۔ چوں کہ میں فطری طور پر موزوں طبع، لے اور ردم کی دنیا سے آگاہ تھا، اس لیے عہدِ طفلی میں بھی مجھے چنداں زحمت نہیں اٹھانا پڑی۔ اب تو بحمداللہ میرے لیے خلاف طبع شعر کہہ لینا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ امیر زادے اور بالخصوص پیرزادے چوں کہ مرکز عقیدت ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی خدمات پیش کر کے جویائے قرب و خوشنودی ہوتا ہے، اس لیے اس طبقہ کا کوئی بھی عمل مخدوش ہی ہوتا ہے، بالخصوص شعر گوئی یا نثر نویسی، چاہیے کہ برسر عام ان کا امتحان لیا جائے، پھر پتہ چلے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ آج تک دنیا کو کون دھوکا دیتا رہا۔ اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر سامنے آجائے گا۔ تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جائے گا۔ شعر کو پرکھنا اور اسے ناقدانہ نگاہ سے دیکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ دیکھا کہ اشعار کے حسن و قبح پر ایسے لوگ بھی زحمت تکلم فرماتے ہیں جن کا دنیائے شعر و ادب کی ابجد سے بھی واسطہ نہیں ہوتا شعر کہنا تو بہت دور کی بات ہے۔ شعر کو وزن میں پڑھ سکنے کی توفیق تک نہیں رکھتے، مگر اچھے خاصے پختہ کلام پر تنقید فرماتے نظر آتے ہیں۔ بقول اکبر:
شعر کہہ سکتا نہیں اور مجھ کو کہتاہے غلط
خود زبانِ معترض ہی خارج از تقطیع ہے
شعر و ادب کی دنیا میں فنِ تنقید ایک الگ اور جداگانہ موضوع ہے۔ ہر فن کی طرح اس فن کی بھی اپنی اصطلاحات و قیود ہیں۔ ناقد کو تنقید کرتے وقت درجِ ذیل باتوں پر نظر رکھنا سخت ضروری ہے محسنات کلام، اغلاطِ کلام اور عیوب کلام-
اغلاطِ کلام کی تین قسمیں ہیں۔ لفظی، معنوی اور ترکیبی۔ عیوب کلام کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مناقضہ ، تقدیم و تعقید(پھر تعقید کی دو قسمیں ہیں لفظی اور معنوی) تضمین(قدماء کے نزدیک معیوب ہے،جدید شعراء بھی چند شراءط کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں) تخلیع، تخالف، تنافر(لفظی و معنوی) غرابت، ضعفِ تالیف، عدول، وصل، قطع، تخفیف، تشدید، ممدودہ، مقصورہ، اسکان اور تحریک وغیرہ۔
ان سب اصطلاحات کو مع تعریفات و امثلہ جو شخص جانتا سمجھتا ہو، وہی کسی کے کلام پر تنقید کا حق رکھتا ہے نہ کہ ہر ایرا غیرا جو لفظ تنقید کا لغوی معنی بھی نہ جانتا ہو، چہ جائیکہ اصطلاحات فنِ تنقید مع تعریفات و امثلہ۔ بقولِ شاعر
قابلیت ہو تو دیدارِ جمال اچھا ہے
ورنہ اس کوچے کا پھر ترکِ خیال اچھا ہے
جیسا کہ ہم نے سابقا عرض کیا کہ باشعور اور باذوق لوگ اچھے شعر کو سمجھتے بھی ہیں، اس کی تعریف بھی کرتے ہیں، اس کے برعکس ایسا کور ذوق اور بے علم طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو شاعری کو ایک فضول کام سمجھتا ہے۔ مگر ایسے لوگوں کی شعر کے بارے میں یہ رائے قطعی طور پر بے وقعت اور بے معنی ہے، کیوں کہ کلام موزوں کا مرتبہ اپنی جگہ ایک مسلمہ امر ہے، جس کی تاثیر سے انکار ممکن نہیں۔ ابتدائے آفرینش سے سلسلہ شروع ہوا اور رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ فن بن کر سامنے آیا۔ ہر ملک ہر تہذیب اور ہر زبان میں شعر گوئی کو ایک مخصوص مقام حاصل رہا اور شاعروں کو امتیازی نظر سے دیکھا گیا۔ جہاں اوراقِ عالم کی صفحہ گردانی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے، وہاں دنیائے اسلام میں بھی اس کو بہ نگاہِ استحسان دیکھنے کے شواہد ملتے ہیں۔
سید نصیر الدین نصیر گیلانی
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔