اسی نے آگ لگائی ہے ساری بستی میں
وہی یہ پوچھ رہا ہے کہ ماجرا کیا ہے
…
پروفیسر مہندر پرتاب چاندؔ کا جنم دن
یکم؍اگست 1935
نام مہندر پرتاب نارنگ اور قلمی نام مہندر پرتاب چاندؔ تھا۔
یکم؍اگست 1935ء کو كروڑ لعل عيسن، پنجاب برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد صوبہ ہریانہ کے انبالہ شہر چلے آئے۔ پروفیسر مہندر پرتاب چاندؔ نے 19؍اکتوبر 2020ء کو وفات پائی۔
منتخب کلام
آپسی رشتوں کی خوشبو کو کوئی نام نہ دو
اس تقدس کو نہ کاغذ پر اتارا جائے
…
پرائے درد میں ہوتا نہیں شریک کوئی
غموں کے بوجھ کو خود آپ ڈھونا پڑتا ہے
….
جو نیکیوں سے بدی کا جواب دیتا ہے
خدا بھی اس کو صلہ بے حساب دیتا ہے
اسی کے حکم سے گھر بار اجڑ بھی جاتے ہیں
وہی پھر ان کو بسانے کے خواب دیتا ہے
بشر پہ قرض جو ہوتے ہیں کار ہائے جہاں
تمام عمر وہ ان کا حساب دیتا ہے
غرض یہ ہے نہ ہو فکر و عمل میں کوتاہی
خدا دلوں کو اگر اضطراب دیتا ہے
قصور اس میں بھی ہے والدین کا شاید
جو بچا ان کو پلٹ کر جواب دیتا ہے
کٹی ہے عمر عذابوں میں دیکھنا ہے اب
مزید کیا دل خانہ خراب دیتا ہے
وہ آزماتا ہے کانٹوں سے صبر انساں کا
پھر اس کے بعد مہکتے گلاب دیتا ہے
سوال دید و ملاقات کر چکے ہیں چاندؔ
اب آگے دیکھیے وہ کیا جواب دیتا ہے
….
زباں کا پاس ہے تو قول سب نبھانے ہیں
اگر مکرنے پہ آؤں تو سو بہانے ہیں
تیر نگاہ کے رستے سبھی نئے ہیں مگر
ہمارے طور طریقے سبھی پرائے ہیں
نہ راس آئی ہمیں آپ کی ادا کوئی
ستم ہے اس پہ کہ ہم آپ کے دوانے ہیں
یہ کیا کہ حوصلہ تم نے ابھی سے ہار دیا
ابھی تو وقت نے کچھ اور گل کھلانے ہیں
سیاہ رات کی تاریکیاں بجا لیکن
نویلی صبح کے منظر عجب سہانے ہیں
ہر اک سمت بلاؤں کا اک ہجوم سا ہے
تمام حوصلے اب دل کو آزمانے ہیں
نیا تو کچھ بھی نہیں تیری داستاں میں چاندؔ
وہی ہیں درد کے قصے وہی فسانے ہیں
………..
طریق عشق میں برباد ہونا پڑتا ہے
گلوں کی چاہ میں کانٹوں پہ سونا پڑتا ہے
بس ایک لمحۂ راز و نیاز کی خاطر
بشر کو مدتوں چھپ چھپ کے رونا پڑتا ہے
ضمیر بیچ کے منصب تو مل ہی جائے گا
وقار پہلے مگر اس میں کھونا پڑتا ہے
ہے بد لحاظ یہ دنیا کوئی کہاں جائے
قدم قدم پہ یہاں خوار ہونا پڑتا ہے
یہ فاقہ کش کہ جنہیں حیف خود فریبی میں
شکم کی سیری کو پانی بلونا پڑتا ہے
معاشرے کا ہو ناسور یا بدن کا گھاؤ
علاج کے لئے نشتر چبھونا پڑتا ہے
پسارے ہاتھ تو پھرتے ہو مال و زر کے لئے
بالآخر ان سے مگر ہاتھ دھونا پڑتا ہے
پرائے درد میں ہوتا نہیں شریک کوئی
غموں کے بوجھ کو خود آپ ڈھونا پڑتا ہے
یہ سچ ہے چاندؔ شگفتہ غزل جو کہنی ہو
قلم کو خون جگر میں ڈبونا پڑتا ہے
………………………
