منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

استقامت شاعر : میک دِزدار (بوسنیا) اس زمیں کے اندھیروں اجالوں میں چلتے ہوئے …


استقامت

شاعر : میک دِزدار (بوسنیا)

اس زمیں کے اندھیروں اجالوں میں

چلتے ہوئے

اُس نے مکروہ چہروں کو

بیمار روحوں کو دیکھا

اس نے لوگوں کے دل میں اُجالا کیا

اور پھر اس نے اوپر نگہ کر کے

خالق سے اک بات کی

یہ بتائے

کہ میرا ابد گیر رستہ

مجھے کب ملے گا؟

مگر اس کے کانوں میں

سیسہ خموشی کا گرنے لگا

اس کی آواز ٹکرا کے

واپس

اسی طرح سے آگئی

موت کب آئے گی

یہ تو اک بھید تھا

اس کے الفاظ

اندھیرے میں

اترے

جہاں

سرسراتے ہوئے

ناگ تھے

چار سو اک اندھیرا تھا

اور خامشی تھی

دور قبروں کے اسرار میں

دور تک

اک اندھیرے سفر میں

خموشی میں

آہستہ آواز کی طرح

ہولے سے بولا کوئی:

زندگی

آسمانوں سے آگے بھی ہے

زندگی

آسمانوں سے آگے بھی ہے …


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3865620747001763