احمّد شمیم نے یہ نظم اپنی ماں کی یاد میں لکھی جو مقبوضہ کشمیر میں تھیں اور وہ ان سے ملنے کی حسرت لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ یہ نظم احمّد شمیم اور نیرہ نُور دونوں کو شہرت بلندیوں پر لے گئی اور دونوں کی پہچان بن گئی۔
آئیے سنیں اور رُوح میں اُترتی مُوسیقی کا لطف لیں۔
”ریت پر سفر کا لمحہ“
کبھی ھم بھی خوبصُورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند
سانس ساکن تھی
بہت سے اَن کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دُور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سناتے تھے
جو ھم سے دُور تھے
لیکن ھمارے پاس رھتے تھے
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ
آنگن میں اُترتی تھی
تو ھم کہتے تھے
اَمی تتلیوں کے پر
بہت ھی خوبصُورت ھیں
ھمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ھم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ھے
ھمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ھیں
نئے دن کی مسافت
رنگ میں ڈُوبی ھَوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ھے
ھمیں ماتھے پہ بوسا دو
ھمیں ماتھے پہ بوسا دو
”احمّد شمیم“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔