ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے
بہت ممکن ہے کل اس کا محبت نام ہو جائے
شعری بھوپالی
…
غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے
کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے
وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے
قفس کو منتشر کر دو نشیمن نام ہو جائے
… More

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔