اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

آشیانے کی بات کرتے ہو جاوید قریشی آشیانے کی بات کر…


آشیانے کی بات کرتے ہو
جاوید قریشی
آشیانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو

ساری دنیا کے رنج و غم دے کر
مسکرانے کی بات کرتے ہو

ہم کو اپنی خبر نہیں یارو
تم زمانے کی بات کرتے ہو

ذکر میرا سنا تو چڑھ کے کہا
کس دوانے کی بات کرتے ہو

حادثہ تھا گزر گیا ہوگا
کس کے جانے کی بات کرتے ہو