اداس دیکھ کے وجہِ ملال پوچھے گا وہ مہرباں نہیں…
وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا
جواب دے نہ سکو گے پلٹ کے ماضی کو
اک ایک لمحہ وہ چبھتے سوال پوچھے گا
دلوں کے زخم دہن میں زباں نہیں رکھتے
تو کس سے ذائقۂ اندمال پوچھے گا
کبھی تو لا کے ملا مجھ سے میرے قاتل کو
جو سر ہے دوش پہ تیرے وبال پوچھے گا
یہ کیا خبر تھی کہ سینے کے داغ لَو دیں گے
کوئی جو محنتِ فن کا مآل پوچھے گا
تُو حرفِ عشق و بصیرت ہے، لب نہ سی اپنے
زمانہ تجھ سے بھی تیرا خیال پوچھے گا
مجھے تراش کے رکھ لو! کہ آنے والا وقت
خزف دکھا کے گُہر کی مثال پوچھے گا
بنا کے پھول کی خوشبو پھرائے گی صدیوں
ہوا سے کون رہِ اعتدال پوچھے گا
یہ ایک پل جو ہے مجہول شخص کی صورت
مزاجِ آگہئ ماہ و سال پوچھے گا
یہاں تعینِ اقدار بھی ضروری ہے
خود اپنے مشک کی قیمت غزال پوچھے گا
مرا قلم ابدیت کی روشنی ہے فضا
اس آفتاب کو اب کیا زوال پوچھے گا
(فضا ابن فیضی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی


