منتخب نظمیں

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ ک…

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

(شاد عظیم آبادی)

مکمل غزل

نگہہ کی برچھیاں جو سہ سکے سینہ اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں، جینا اسی کا ہے

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

مکدّر یا مصفّا جس کو یہ دونوں ہی یکساں ہوں
حقیقت میں وہی مے خوار ہے، پینا اسی کا ہے

امیدیں جب بڑھیں حد سے طلسمی سانپ ہیں زاہد
جو توڑے یہ طلسم اے دوست گنجینا اسی کا ہے

کدورت سے دل اپنا پاک رکھ اے شادؔ پیری میں
کہ جس کو منہ دکھانا ہے یہ آئینا اسی کا ہے

(شاد عظیم آبادی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/