(جبران خلیل کی نظم On Children سے ماخوذ) اولاد ! تُمھارے بچے تمھارے بچے نہیں ہ…
اولاد !
تُمھارے بچے تمھارے بچے نہیں ہیں
ان کو تو زندگی نے خود اپنے تسلسل کی خاطر جنم دیا ہے
تُم ان کے دُنیا میں آنے کا ذریعہ ضرور، مگر وجہ ہرگز نہیں ہو
اور گو کہ وہ تمھارے ساتھ رہتے ہیں ،مگر تُم اُن کے مالک بالکل نہیں
تُم اپنی ساری محبت اُن پر وار سکتے ہو، مگر اپنی سوچ ان کو نہیں دے سکتے
کہ وہ اپنے خیالات کے خالق و مالک خود ہی ہیں
تُم ان کے جسموں کو اپنے پاس رکھنے پر قادر سہی، مگر اُن کی روحیں آزاد ہیں
اُن کی روحیں مستقبل کے مکانوں کی مقیم ہیں
اور مستقبل کی ان آماجگاہوں کا تصور تُم اپنے خوابوں میں بھی نہیں کر سکتے
تُم ان جیسا بننے کی کوشش تو کر سکتے ہو
مگر انہیں اپنے جیسا بنانے کی حماقت مت کرنا
کہ زندگی کا پہیہ آگے کی طرف چلتا ہے نا کہ پیچھے کی طرف، اور نا ہی اِس کی فطرت میں ایک جگہ رُکے رہنا ہے
تُم اِک کمان کی طرح ہو ، جس میں سے تمھاری اولاد تِیر کی طرح نکل کر وقت کے دھارے میں شامل ہوتی جاتی ہے ۔
تمھارا خالق ، تمھارا تِیرانداز، تمھارے تِیروں کے لئے لامحدود مستقبل میں طے کردہ اہداف دیکھ سکنے پر قادر ہے
وہ تیروں کو اپنے ہدف تک پہنچانے کے واسطے تُم پر، جو اُسکی کمان ہو، کچھ سختی بھی روا رکھتا ہے
کہ وہ تِیروں کو دور ، اپنے اہداف کی طرف سبک انداز سے بھیج سکے
تُم اپنے تِیر انداز کو اجازت دو کہ وہ اپنے ہاتھوں کی مضبوطی تمھیں استعمال کرنے میں برت سکے
کہ تیرا انداز کے لئے تیروں کا اپنے ہدف کی طرف بڑھنے کا نظارہ اتنا ہی پرلُطف ہے جتنا اپنی کمان کو کارآمد دیکھنا !
(وسیم ملک)
On Children
(Khalil Jibran)
Your children are not your children.
They are the sons and daughters of Life’s longing for itself.
They come through you but not from you,
And though they are with you yet they belong not to you.
You may give them your love but not your thoughts,
For they have their own thoughts.
You may house their bodies but not their souls,
For their souls dwell in the house of tomorrow,
which you cannot visit, not even in your dreams.
You may strive to be like them,
but seek not to make them like you.
For life goes not backward nor tarries with yesterday.
You are the bows from which your children
as living arrows are sent forth.
The archer sees the mark upon the path of the infinite,
and He bends you with His might
that His arrows may go swift and far.
Let your bending in the Archer’s hand be for gladness;
For even as He loves the arrow that flies,
so He loves also the bow that is stable.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3861209610776210




https://youtube.com/shorts/YlpL8WR0xd8
خلیل جبران عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا تھا اور عیسائیت میں بائبل کے مطابق اولاد والد کی ملکیت ہوتے ہیں اور اسلام میں تو والدین اور اولاد کا مرتبہ مقام وراثت سب ہی کو معلوم ہے
پتہ نہیں اس نظم میں یہ نظریہ اور یہ فلسفہ کیوں پیش کیا خلیل جبران نے جو خود اس کے مذہب سے بھی متصادم ہے اور اسلام سے بھی اور جدید علوم کی بھی نفی کرتی ہے نظم
بہترین ساتھ ہی ترجمہ بھی
Waaaaaaah very nice
بہت اعلیٰ
بہت خوب
عمدہ اقتباس اور ترجمہ بھی عمدہ 🌹