منتخب غزلیں

وہ حادثے بھی دہر میں ہم پر گزر گئے جینے کی آرزو می…

وہ حادثے بھی دہر میں ہم پر گزر گئے
جینے کی آرزو میں کئی بار مر گئے
..
ڈاکٹر عنوانؔ چشتی کا یومِ ولادت
05؍فروری 1935
(پیدائش: 5 فروری، 1937ء- وفات: 1 فروری، 2004ء)
نام افتخار الحسن اورتخلص عنوان تھا۔ وہ قصبہ منگلور، ضلع سہارن پور(اترانچل) میں پیدا ہوئے۔ایم اے (جغرافیہ) ایم اے (اردو) کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔
منتخب کلام
اک اضطرار بھی شامل ہے دل کے رشتوں میں
جو اس کو اپنا کہا بھی تو بے ارادہ کہا
———-
یہ ایک دوست نے لکھا ہے خط میں اے عنواں
تری جگہ مری پلکوں کے سائبان میں ہے
……….
غلط ہے یہ کہ تو شبنم ہے یا شرارہ ہے
ترا جمال محبت کا استعارہ ہے
———-
آنکھوں کے دریچے سے در آیا تھا جو ا ک شام
اب دل سے اس آسیب کا سایہ نہیں جاتا
……….
ہر چہرہ ترا چہرہ ہے ہر آنکھ مری آنکھ
یہ تجھ سے جدا ہوکے نئی بات ہوئی ہے
……….
تمام جسم ہے ڈوبا ہوا اندھیروں میں
مگر یہ دل کہ ترے غم کی روشنی ہے یہاں
………..
بجھا بجھا سا ہے کیوں آج شعلۂ احساس
ابھی تو دل میں غموں کے چراغ جلتے ہیں
………..
کوئی غرض نہیں اس سے خوشی ملے نہ ملے
اسے تو ضد ہے کہ بس دل دکھانا ہے میرا
……….
وہ چاند چہرہ، گلاب آنکھیں، غزل سراپا
مگر اسے میرا دل دکھانے کی ضد عجب تھی
……..
نشۂ جذب و جنوں اور بھی گہرا ہوجائے
میں جو چھو لوں تو ترا رنگ سنہرا ہوجائے
———-
مر مریں نرم، خنک اس کا بدن
ریت کی گرم ہوا ہوجاؤں
———-
نگاہ سے نہیں ہونٹوں سے اس کو پڑھتا ہوں
کتاب چہرہ تمنا کا گوشوارہ ہے
———-
بلندیوں سے اترنے میں دیر ہو شاید
ہوس کا شوخ پرندہ بہت اڑان میں ہے
———-
ہر رات کو سپنوں میں اک چاند تو آتا ہے
دل ہی اسے چھونے کی حسرت میں نہ مر جائے
———-
رنگ پہ ہوتی ہے خوشبوئے بدن رات گئے
پھول کھلتا ہے سرِ شاخِ چمن رات گئے
………..
نہ جانے کون سے عالم میں خود سے بچھڑا تھا
پلٹ کے دیکھ رہی تھی مری انا مجھ کو
———-
دل میں پھر اک حشر برپا ہوگیا
پھر تری یادو کے لشکر آگئے
———-
یادوں کے یہ امیں ہیں انہیں مت بھلائیو
آنکھوں میں جو چراغ ابھی رَت جگوں کے ہیں
———-
کسی کا نام لکھا دیکھ کر خیال آیا
حسین یادیں ہیں وابستہ اس کتاب کے ساتھ
———-
ذہن میں پھر اک تار بندھا ہے بھولی بسری یادوں کا
تصویریں سی ناچ رہی ہیں، آنکھوں کی ویرانی میں
……….
ہستی کے موہوم سفر میں کوئی کہاں تک تنہا جائے
روح کا پارا جمتا جائے، جسم کا سونا پگھلا جائے
———-
کتنے موسم بیت گئے ہیں دکھ سکھ کی تنہائی میں
درد کی جھیل نہیں سوکھی ہے آنکھوں کی انگنائی میں
———-
دل کی طرح گھر کی ویرانی پل دو پل کی بات نہیں
اب تو سبزہ بھی نہیں اگتا یاروان دیواروں پر
———-
یہ زندگی ہے اسے ٹوٹ کر نہ کیوں چاہوں
کہ اس کے بعد بہاروں خزاں نہیں ہے کوئی
———-
جو اپنے خون کے رشتوں کے نام پوچھتے ہوں
تو دشمنوں کو بھی اللہ ایسے بھائی نہ دے
———-
بچوں سے محبت ہے مگر جیب ہے خالی
کس سے کہیں پردیس سے گھر کیوں نہیں جاتے
………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/